Home / Opinion / Columns / کیا استاد اور شاگرد کے مابین شادی کے رشتے کی روایت پڑنی اور بڑھنی چاہیے؟

کیا استاد اور شاگرد کے مابین شادی کے رشتے کی روایت پڑنی اور بڑھنی چاہیے؟

سہیل تاج             

 
971747_10151905299423375_2089064251_nSohailtaj@msn.com
استاد اور شاگرد کا رشتہ ایک اس قدر معتبر ہے کہ اسے روحانی رشتے سے تعبیر کیا جا تا ہے۔استاد بغیر کسی لالچ اور فائدے کے علم کی روشنی شاگردوں تک منتقل کرتا ہے اور انہیں علم کی دولت سےوہ صلاحیتیں بخشتا ہے جس سے آدمی کا وقار معاشرے میں بلند ہوتا ہے۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ استاد کئی سال ایک ہی ادارے سے وابستہ رہتا ہے اور اپنے شاگردوں کو خود سے بہتر اداروں سے وابسطہ ہوتا دیکھتا ہے اور اس پررنجیدہ ہونے کے بجائے مسرت کا اظہار کرتا ہے۔ استاد کی شخصیت باوقار ہوتی ہے اورشخصیت سے متاثر ہونا انسانی جبلت میں شامل ہے۔ کسی شخص کا انداز، گفتگو، لباس وغیرہ کو مجموعی طور پر شخصیت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ شاگرد اپنی ٹین ایج میں جذباتی واقع ہوتے ہیں ۔روزمرہ معمولات زندگی کے دوران طالب علم کئی طرح کے لوگوں سے ملتے اور انہیں پرکھتے ہیں مگر کچھ استاد ایسے ہوتے ہیں جن سے شاگردوں کو جذباتی لگاؤ محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہ لگاؤ اگر متضاد جنس کے لئے ہو تو اسے کرش کا نام دیا جاتا ہے۔ کرش سے مراد ایسی وابستگی ہے جو وقتی ہو اور اس میں محبت کے جذبات کا دخل نہ ہو۔استاد ایسی وابستگی کو زیادہ اہمیت کا حامل نہیں گردانتے اور شاگرد بھی گزرتے وقت کے ساتھ ان احساسات پر قابو پالیتے ہیں۔البتہ وقت کے ساتھ ساتھ استاد اور شاگرد کے مابین کرش سے محبت اور محبت سے شادی کا سفر بھی طے ہونے لگا ہے۔ یونیوسٹی کی پڑھائی کے دوران بعض اوقات استاد اور شاگرد کا رشتہ روایتی حدوں کو پار کرتا دکھائی دیتا ہے۔
استاد اور شاگرد کی شادی کا فیصلہ کیسا ہے اور اس میں کیا قباحتیں ہیں اس پر کئی ایک آراء پائی جاتی ہیں۔ معاشرے میں یہ خیال پایا جاتا ہے شادی ایک جائز رشتہ ہے اور اگر اس کے لئے جائز اور رائج طریقہ اپنایہ جائے اور شادی کا پیغام بھجوا کر رشتہ ازدواج میں منسلک ہوا جائے تو اس میں کوئی ہرج نہیں۔ اس کے برعکس ایک خیال یہ ہے کہ شادی کا رشتہ یقنی طور پر جائز ہے مگر استاد اور شاگرد کے مابین یہ رشتہ بہت سے خدشات کو جنم دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ استاد یا شاگرد شادی کا پیغام رسمی ملاقات کے بعد نہیں بجھواتا بلکہ اس سے قبل مسلسل رابطے کا قائم ہونا، ملاقاتوں کا ہونا اور ذاتی زندگیوں میں مداخلت وغیرہ اس رشتے کی بنیاد بنتے ہیں جو کہ یقیناًاستاد اور شاگرد کے رشتے میں اخلاقی جرم کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔
ایک عام خیال یہ بھی ہے کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں اورشادی بیاہ تقدیر کے فیصلے ہیں ۔ اگر استاد اور شاگرد ایک دوسرے کو قبول کر لیں تو اس میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔لوگوں میں یہ سوچ بھی پائی جاتی ہے کہ دور حاضر میں گھر بسانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ گھرانوں کی توقعات، جہیز،حق مہر کی رقم، ذات برادری کے معاملات بڑھ رہے ہیں۔مرد اس عورت سے شادی کرتا ہے جو اس کے معیار پر پورا اترتی ہے جبکہ عورت جسے اپنا شریک حیات منتخب کر ے اسے اپنا معیار بنا لیتی ہے۔یہ خاص مشرق کی روایت ہے اور اسی وجہ سے یہاں رشتوں میں نبھا ممکن ہوتا ہے۔ ایسے میں لڑکی کو ایسا ہم سفر مل جاتا ہے جو با عزت پیشے تعلق رکھتا ہے اور معاشی ومعاشرتی طور پر شریک حیات کے کی تمام ذمہ داریاں ادا کر سکتا ہے تواس پر خاموشی اختیار کر لینی چاہیے۔
مذہب کے پس منظر میں بات کی جائے تو تعلیم کا حقیقی مقصد سیرت سازی اور تربیت ہے۔ اس لحاظ سے تعلیم و تربیت شیوہ پیغمبری ہے جس میں استاد اور شاگرد تعلیمی نظام کے دو انتہائی اہم عنصر ہیں ۔ معلم کی ذمہ داری صرف سکھانا ہی نہیں بلکہ اپنی سیرت کے ذریعے شاگردوں کی ذمہ داری بھی ہے۔ اس بنا پر یہ ایک مقدس فریضہ ہے اور اسی تقدس کے پیش نظر استاد اور شاگرد کی اپنی اپنی ذمہ داریاں ہیں ۔ان ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہر دو جانب سے فرائض میں شامل ہے۔اس موقع پر مخلوط نظام تعلیم پر بھی بہت سے سوالات اٹھتے ہیں اور اس نظریے سے بھی واسطہ پڑتا ہے کہ مرد کا عورت اور عورت کا مرد کوپڑھانا کیسا ہے؟یہ سوال سماجی رابطے کی ایک ویب سائٹ پر پوچھا گیا تو بیشتر لوگوں نے یہ روایت نقل کی :’حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا ، کیا کوئی مرد کسی غیر محرم لڑکی کو پڑھا سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا، اگر پڑھانے والا بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ ہوں، پڑھنے والی حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہ ہوں،جس جگہ پڑھایا جا رہا ہو وہ بیت اللہ شریف ہو(خانہ کعبہ) اور جو پڑھایا جا رہا ہے وہ کلام اللہ (قرآن پاک) ہو ، پھر بھی اس کی اجازت نہیں۔ اس کے برعکس کچھ لوگوں کا خیال تھاکہ صحابہ امہات المومنین ؒ سے حدیث کی تعلیم حاصل کرتے اور شرعی مسائل معلوم کرتے تھے لہذا ادب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تعلیم کے حصول میں عورت اور مرد سے سیکھنے میں کوئی ہرج نہیں۔
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے جنڈر اینڈ ومین ڈپارٹمنٹ کی انچارج ،ڈاکٹر رفعت حق کا خیال ہے کہ شادی اور محض تعلقات کے بڑھنے میں خاصا فرق ہے۔ شادی کو عمر بھر کا سمجھوتہ سمجھتے ہوئے یہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ استاد اور شاگرد کی شادی ڈرامہ اور فلم میں تو حسین معلوم ہوتی ہے مگر معاشرے میں اس کی قبولیت نہیں۔ رفعت حق کا خیال ہے کہ ہمارا معاشرہ تبدیلی کو جلدی قبول نہیں کرتا اور ایسے رشتوں پر نتقید کا سلسہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود ااگر سو میں سے ایک مثال کامیاب ہو بھی جائے تو ہمیں اسے مثالی تصور نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس قسم کے رشتے عملی زندگی میں کئی ایک الجھنوں کا شکار ہو کر ناکام ہو جاتے ہیں۔بافرض محال اگر کوئی رشتہ ہو جائے تو اصولی طور پر ہمیں دو لوگوں کے فیصلے ان پر چھوڑ دینے چاہیے اور ان کی کامیاب زندگی کے لئے دعا کرنی چاہیے۔

education
ڈاکٹر الفت ، کلینکل سائیکالوجسٹ اور میرج کونسلنگ کے شعبے سے وابسطہ ہیں۔ ڈاکٹر الفت کا کہنا ہے کہ اول تو ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ شادی دراصل کیا ہے؟ شادی کو معاشرے میں ایک سوشل کانٹریکٹ کا درجہ حاصل ہے۔ شادی معاشرے میں دو لوگوں کے ایک ساتھ رہنے اور گرہستی کو اخلاقی اور قانونی جواز فراہم کرتی ہے۔ اس پیرائے میں اگر یہ کہا جائے کہ استاد اور شاگرد شادی کر سکتے ہیں تو یقیناًایسا ممکن ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے جسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ جب بھی شادی کا ذکر آتا ہے تو عمر بھر ساتھ جینے کے وعدے کی باتیں بھی کی جاتیں ہیں۔ میرج کونسلنگ کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ سائیکالوجسٹ دونوں پارٹنرز کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ غلطیاں دونوں جانب سے سرزد ہوئیں اور ایسے بہت سے اچھے پہلو بھی ہیں جنہیں مد نظر رکھ کر زندگیایک ساتھ گزاری جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر الفت بتاتی ہیں ایسا ہرگز نہیں کہ ہر کیس میں شادی کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔میرج کونسلر کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے کلائنٹس کوان کے شریک حیات کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد کرے جس سے وہ بہتر فیصلے تک پہنچ سکیں کیونکہ کچھ رشتوں کا قائم رہنا عمر بھر کی اذیت ثابت ہوتا ہے۔اسی طرح استاد اور شاگرد کی شادی کا فیصلہ سائنسی اصول کی طرح مکمل صحیح یا غلط نہیں ہو سکتا۔ ایسے بہت سے پہلو ہیں جنہیں مد نظر رکھ کر یہ فیصلہ کرنا چاہیے جس میں والین اہمیت روایات اور اقدار کو دینی چاہیے۔
ڈاکٹر الفت مزید بتاتی ہیں کہ ہمیں لڑکیوں کے اعتماد کو بحال کرنا چاہیے۔ لڑکیوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ لڑکا تمھارے بھائی جیسا ہے، استاد تمھارے والد جیسا ہے وغیرہ۔ لڑکیوں کو یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ان کے کلاس فیلو اور کولیگ ان کے حقیقی بھائی یا رشتہ دار نہیں بن سکتے۔ لڑکیوں کو یہ اعتماد اول ان کے گھر سے ملنا چاہیے تا کہ وہ زندگی کو اپنے بل بوتے پر جینا سیکھیں اور دوسروں سے امیدیں وابسطہ کرنے کے بجائے زندگی میں اپنے قدم جما سکیں۔
زمینی حقائق کو دیکھا جائے ہمارے ہاں لڑکیوں کی تعلیم پر خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ دیہاتی علاقوں میں لڑکیاں بنیادی تعلیم سے بھی محروم دکھائی دیتی ہیں۔یونیورسٹی میں لڑکیوں کا تعلیم حاصل کرنا ایک خاص طبقے تک محدودہے۔ ہمارے ہاں ایسے خاندان بھی موجود ہیں جو یہ نہیں چاہتے کہ ان کی لڑکیاں مخلوط نظام تعلیم کا حصہ بنیں۔ان حالات میں ہمیں صرف اپر کلاس کو دیکھنے کے بجائے مڈل کلاس کے کو بھی ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔ اساتذہ آج بھی قابل احترام ہیں اور والدین کے لئے قابل بھروسہ ہیں۔اس تناظر میں شاگردوں سے زیادہ ذمہ داری اساتذہ پر عائد ہوتی ہے کہ شاگردوں کے ساتھ تعلقات کو محدود رکھیں کیونکہ اگراساتذہ کا کردار پر بھی سوالیہ نشان آ گیا تو تعلیم نسواں کے حالات اور بھی ابتر ہو جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top