Home / National / اسپیکر قومی اسمبلی: ایاز صادق پھر امیدوار نامزد

اسپیکر قومی اسمبلی: ایاز صادق پھر امیدوار نامزد

ayaz

اسلام آباد: وزیر اعظم نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کی طرف سے سردار ایاز صادق کو قومی اسمبلی کے اسپیکر کے لیے امیدوار نامزد کردیا۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف سے مسلم لیگ (ن) کے نومنتخب رکن قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ پارلیمنٹ میں جمہوری اقدار کے فروغ میں ایاز صادق کا کردار قابل تحسین ہے اور امید ہے کہ وہ مستقبل میں بھی پارلیمانی روایات برقرار رکھیں گے۔

خیال رہے کہ رواں سال 22 اگست کو الیکشن ٹربیونل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی عام انتخابات میں دھاندلی کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے حلقے میں دوبارہ پولنگ کا حکم دیا تھا۔

سردار ایاز صادق نے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے اسے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی، جبکہ انہوں نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کے عہدے سے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔

بعد ازاں انہوں نے این اے 122 کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔

11 اکتوبر کو حلقہ این اے 122 کے ضمنی انتخاب میں ایاز صادق کا مقابلہ کرنے کے لیے تحریک انصاف کے علیم خان کو میدان میں اتارا گیا۔

ضمنی انتخاب کا نتیجہ بھی سردار ایاز صادق کے حق میں آیا اور انہوں نے علیم خان کو 2 ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی۔

گزشتہ روز سردار ایاز صادق سمیت 4 نومنتخب اراکین قومی اسمبلی نے اپنی رکنیت کا حلف اٹھایا تھا۔

سردار ایاز صادق کے اسپیکر کے عہدے سے فارغ ہونے کے بعد 2 ماہ سے طویل مدت کے بعد قومی اسمبلی کا یہ پہلا اجلاس تھا۔

اجلاس کے دوران قائم مقام اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کے الیکشن کے شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر کا انتخاب 9 نومبر کو ہوگا جبکہ 8 نومبر کی دوپہر 12 بجے تک کاغذات نامزدگی جمع کرائے جاسکتے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے شفقت محمود کو اسپیکر کی نشست کے لیے نامزد کیا گیا ہے جبکہ فاٹا ارکان نے غازی گلاب جمال کو اسپیکر کی نشست کے لیے نامزد کیا ہے۔

واضح رہے کہ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف لاہور کے آرگنائزر شفقت محمود نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا.

قومی اسمبلی میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی عددی اکثریت کے باعث ایاز صادق کو دوبارہ اسپیکر کا منصب سنبھالنے کے لیے بظاہر کوئی دشواری نظر نہیں آتی۔

342 کے ایوان میں مسلم لیگ (ن) کے اس وقت 188 ارکان موجود ہیں اور ایاز صادق کو پیپلز پارٹی کے 46، ایم کیو ایم کے 24، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 13 اور مسلم لیگ فنکشنل کے 5 ارکان کی حمایت بھی حاصل ہے۔

پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے 4، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے 2 اور مسلم لیگ (ض) کے اعجاز الحق کا جھکاؤ بھی ایاز صادق کی طرف ہے۔

پی ٹی آئی کے اس وقت ایوان میں 33 ارکان ہیں جبکہ عوامی مسلم لیگ کے واحد رکن قومی اسمبلی شیخ رشید احمد کی ہمدردیاں بھی پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں۔

شفقت محمود کو حال ہی میں خیبر پختونخوا میں حکمران اتحاد کا دوبارہ حصہ بننے والی قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پاؤ کا ووٹ ملنے کی بھی امید ہے، جبکہ ملتان سے آزاد رکن قومی اسمبلی عامر ڈوگر کا جھکاؤ بھی پی ٹی آئی کی طرف ہے۔

واضح رہے کہ 2013 کے عام انتخابات کے بعد ایاز صادق 258 ووٹ لے کر اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے، جبکہ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے شہریار آفریدی نے 31 اور ایم کیو ایم کے ایس اقبال قادری نے 23 ووٹ حاصل کیے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top